پختونوں کے وسائل پر کسی کو اجارہ داری قائم نہیں کرنے دیں گے، پختونوں کا حق پنجاب کو ہضم نہیں کرنے دیں گے، ایمل ولی خان*
🗓 25 Oct 2026
*پختونوں کے وسائل پر کسی کو اجارہ داری قائم نہیں کرنے دیں گے، پختونوں کا حق پنجاب کو ہضم نہیں کرنے دیں گے، ایمل ولی خان*
**اے این پی نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑی ہے، غیر جمہوری قوتوں کا نہ پہلے ساتھ دیا، نہ اب دیں گے، موجودہ نظام کا حصہ بھی نہیں بنیں گے، امریکہ میں اے این پی کی حلف برداری تقریب سے خطاب**
**امریکہ میں اے این پی کارکنوں کا بڑا اجتماع، ڈاکٹر بشیر خان ہوتی، شاہد اقبال، ڈاکٹر اسرار کاکاخیل ہوتی، عبداللہ خان، افضل خان ماندوری اور مس ریحانہ مکین سمیت دیگر عہدیداروں نے حلف اٹھا لیا**
**امریکہ — خصوصی رپورٹ**
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق، وسائل پر اختیار اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ہم نے ماضی میں غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا اور نہ آئندہ دیں گے، جبکہ موجودہ غیر جمہوری نظام کا حصہ بننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم کے وسائل پر کسی کو اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی پختونخوا کے وسائل دوسرے صوبوں، خصوصاً پنجاب، منتقل کرنے کے کسی اقدام کو قبول کیا جائے گا۔ پختونوں کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سیاسی و جمہوری جدوجہد کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع اور اے این پی امریکہ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اے این پی امریکہ کے صدر ڈاکٹر بشیر خان ہوتی، شاہد اقبال، ڈاکٹر اسرار کاکاخیل ہوتی، عبداللہ خان، افضل خان ماندوری، مس ریحانہ مکین اور دیگر عہدیداروں نے اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
ایمل ولی خان نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اوورسیز پاکستانی ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں بھی نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت کی سیاست کا بنیادی مقصد پختون قوم کے حقوق کا تحفظ، صوبائی خودمختاری، جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری راستے سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی ہے اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے اقدامات مسائل کا حل نہیں بلکہ جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے اے این پی ایسے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن یہاں کے عوام کو اپنے وسائل کے مطابق ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ صوبے کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور انہیں اپنے وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے وسائل کو کسی دوسرے علاقے کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ پختونوں کا نوالہ کسی دوسرے کو ہضم نہیں کرنے دیں گے۔
ایمل ولی خان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قیام کے بنیادی جمہوری وعدوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت، عوامی بالادستی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے بقول 1973ء کا آئین پاکستان کی تمام قومیتوں اور صوبوں کو ایک آئینی بندھن میں جوڑنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس آئین کے تحت تمام صوبوں کو اپنے وسائل پر اختیار اور اپنے معاملات میں مناسب خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین نے ملک کی مختلف قومیتوں اور صوبوں کو ایک مشترکہ وفاقی نظام میں متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر اس آئینی معاہدے کو کمزور کیا گیا اور صوبوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے نتیجے میں وفاق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اے این پی صوبائی خودمختاری اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے آئینی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے تمام راستے اختیار کرنا جانتی ہے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یا سیاسی نقشے بنانے کے بجائے موجودہ صوبوں کے حقوق، وسائل اور اختیارات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کا احترام ہی قومی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اسٹبلشمینٹ کی سیاست میں مداخلت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کو کرنے چاہئیں، نہ کہ کسی غیر منتخب قوت کو۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کے ووٹ کی حرمت تسلیم کی جائے اور انتخابات کے ذریعے سامنے آنے والے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ اس وقت اپنی حقیقی روح سے دور دکھائی دیتا ہے جب سیاسی فیصلوں میں غیر جمہوری قوتوں کے کردار کے الزامات سامنے آتے ہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ مریم نواز اور عمران خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کے سیاسی عروج کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت عوامی حمایت اور جمہوری عمل کے ذریعے آگے لانی چاہیے، جبکہ سیاست میں غیر جمہوری مداخلت کے دروازے مستقل طور پر بند ہونے چاہئیں۔
انہوں نے ملک میں اہم سیاسی فیصلے رات کی تاریکی میں کیے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ قومی معاملات میں شفافیت، پارلیمانی بحث اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ فیصلے کھلے عام، آئین کے مطابق اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
اے این پی کے سربراہ نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کو جمہوری بالادستی کے لیے واضح اور مستقل مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اگر سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کو ترجیح دیتی رہیں اور غیر جمہوری مداخلت کے خلاف اصولی مؤقف اختیار نہ کریں تو جمہوریت کو مضبوط بنانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو عوامی مینڈیٹ، آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر متفق ہونا ہوگا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے، صوبائی خودمختاری کے تحفظ اور پختون قوم کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق حقیقی جمہوریت اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے، اپنے وسائل پر اختیار رکھنے اور ملکی فیصلوں میں مؤثر شرکت کا حق حاصل ہو۔
قبل ازیں ایمل ولی خان کی جلسہ گاہ آمد پر پارٹی کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر کارکنوں نے باچا خان، ولی خان بابا اور ایمل ولی خان کے حق میں نعرے لگائے، جس سے ہال گونج اٹھا۔ تقریب میں پارٹی قیادت اور کارکنوں نے تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے اور امریکہ میں مقیم پختونوں اور پاکستانیوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں اے این پی امریکہ کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کو تنظیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور بیرون ملک پارٹی کے سیاسی و سماجی کردار کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی قیادت امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل اجاگر کرنے، پختون ثقافت کے فروغ اور پاکستان میں جمہوری اقدار و صوبائی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
**اے این پی نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑی ہے، غیر جمہوری قوتوں کا نہ پہلے ساتھ دیا، نہ اب دیں گے، موجودہ نظام کا حصہ بھی نہیں بنیں گے، امریکہ میں اے این پی کی حلف برداری تقریب سے خطاب**
**امریکہ میں اے این پی کارکنوں کا بڑا اجتماع، ڈاکٹر بشیر خان ہوتی، شاہد اقبال، ڈاکٹر اسرار کاکاخیل ہوتی، عبداللہ خان، افضل خان ماندوری اور مس ریحانہ مکین سمیت دیگر عہدیداروں نے حلف اٹھا لیا**
**امریکہ — خصوصی رپورٹ**
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق، وسائل پر اختیار اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ہم نے ماضی میں غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا اور نہ آئندہ دیں گے، جبکہ موجودہ غیر جمہوری نظام کا حصہ بننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم کے وسائل پر کسی کو اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی پختونخوا کے وسائل دوسرے صوبوں، خصوصاً پنجاب، منتقل کرنے کے کسی اقدام کو قبول کیا جائے گا۔ پختونوں کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سیاسی و جمہوری جدوجہد کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع اور اے این پی امریکہ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اے این پی امریکہ کے صدر ڈاکٹر بشیر خان ہوتی، شاہد اقبال، ڈاکٹر اسرار کاکاخیل ہوتی، عبداللہ خان، افضل خان ماندوری، مس ریحانہ مکین اور دیگر عہدیداروں نے اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
ایمل ولی خان نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اوورسیز پاکستانی ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں بھی نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت کی سیاست کا بنیادی مقصد پختون قوم کے حقوق کا تحفظ، صوبائی خودمختاری، جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری راستے سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی ہے اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے اقدامات مسائل کا حل نہیں بلکہ جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے اے این پی ایسے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن یہاں کے عوام کو اپنے وسائل کے مطابق ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ صوبے کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور انہیں اپنے وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے وسائل کو کسی دوسرے علاقے کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ پختونوں کا نوالہ کسی دوسرے کو ہضم نہیں کرنے دیں گے۔
ایمل ولی خان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قیام کے بنیادی جمہوری وعدوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت، عوامی بالادستی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے بقول 1973ء کا آئین پاکستان کی تمام قومیتوں اور صوبوں کو ایک آئینی بندھن میں جوڑنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس آئین کے تحت تمام صوبوں کو اپنے وسائل پر اختیار اور اپنے معاملات میں مناسب خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین نے ملک کی مختلف قومیتوں اور صوبوں کو ایک مشترکہ وفاقی نظام میں متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر اس آئینی معاہدے کو کمزور کیا گیا اور صوبوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے نتیجے میں وفاق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اے این پی صوبائی خودمختاری اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے آئینی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے تمام راستے اختیار کرنا جانتی ہے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یا سیاسی نقشے بنانے کے بجائے موجودہ صوبوں کے حقوق، وسائل اور اختیارات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کا احترام ہی قومی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اسٹبلشمینٹ کی سیاست میں مداخلت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کو کرنے چاہئیں، نہ کہ کسی غیر منتخب قوت کو۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کے ووٹ کی حرمت تسلیم کی جائے اور انتخابات کے ذریعے سامنے آنے والے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ اس وقت اپنی حقیقی روح سے دور دکھائی دیتا ہے جب سیاسی فیصلوں میں غیر جمہوری قوتوں کے کردار کے الزامات سامنے آتے ہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ مریم نواز اور عمران خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کے سیاسی عروج کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت عوامی حمایت اور جمہوری عمل کے ذریعے آگے لانی چاہیے، جبکہ سیاست میں غیر جمہوری مداخلت کے دروازے مستقل طور پر بند ہونے چاہئیں۔
انہوں نے ملک میں اہم سیاسی فیصلے رات کی تاریکی میں کیے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ قومی معاملات میں شفافیت، پارلیمانی بحث اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ فیصلے کھلے عام، آئین کے مطابق اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
اے این پی کے سربراہ نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کو جمہوری بالادستی کے لیے واضح اور مستقل مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اگر سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کو ترجیح دیتی رہیں اور غیر جمہوری مداخلت کے خلاف اصولی مؤقف اختیار نہ کریں تو جمہوریت کو مضبوط بنانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو عوامی مینڈیٹ، آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر متفق ہونا ہوگا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے، صوبائی خودمختاری کے تحفظ اور پختون قوم کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق حقیقی جمہوریت اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے، اپنے وسائل پر اختیار رکھنے اور ملکی فیصلوں میں مؤثر شرکت کا حق حاصل ہو۔
قبل ازیں ایمل ولی خان کی جلسہ گاہ آمد پر پارٹی کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر کارکنوں نے باچا خان، ولی خان بابا اور ایمل ولی خان کے حق میں نعرے لگائے، جس سے ہال گونج اٹھا۔ تقریب میں پارٹی قیادت اور کارکنوں نے تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے اور امریکہ میں مقیم پختونوں اور پاکستانیوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں اے این پی امریکہ کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کو تنظیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور بیرون ملک پارٹی کے سیاسی و سماجی کردار کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی قیادت امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل اجاگر کرنے، پختون ثقافت کے فروغ اور پاکستان میں جمہوری اقدار و صوبائی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔