📅 جمعرات، 15-10-2026 فیس بک یوٹیوب
ڈیلی اکثریتDaily Aksriyat
سچائی کی آواز — تازہ ترین خبریں اور روزنامہ
سیاسی صورتحال

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی اپیل، 13 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنوں سے قافلوں کی آمد کا اعلان

🗓 10 Oct 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی اپیل، 13 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنوں سے قافلوں کی آمد کا اعلان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی اپیل، 13 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنوں سے قافلوں کی آمد کا اعلان

**شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب؛ حقیقی آزادی، خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم، رجیم چینج آپریشن کو ملکی معاشی و سیاسی بحران کی وجہ قرار دے دیا**

**چارسدہ (خصوصی رپورٹ)** وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شبقدر چوک، ضلع چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو ملک بھر کے عوام کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، جبکہ اسی روز ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، جبکہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر جاری مارچ میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی اور قومی خودمختاری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک عمران خان کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا میں امن و خوشحالی تھی اور پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے مطابق اس دور میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جبکہ صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا۔ ان کے بقول بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر ملک کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے، گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں مہنگائی کی شرح 16 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے معاشی اشاریے منفی سمت میں گئے اور عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان سرفہرست آچکا ہے۔

### دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور ماضی کی پالیسیوں پر سوالات

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے، لیکن دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان میں کیا گیا تھا۔ اس وقت چھ ماہ میں امن بحال کرنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں اس آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی تھیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بھٹو کے بیان کردہ مؤقف کے مطابق بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات کو محدود کرکے تمام وسائل، اختیارات اور مراعات ایک ہی جگہ مرکوز کردینا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ ان کا ذاتی مؤقف نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا بیان کردہ مؤقف ہے۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس جماعت کے بانی تھے، لیکن آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ پی ٹی آئی کو دہشت گردوں سے جوڑتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشت گردوں کے لیے ’’مائی بوائز‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

انہوں نے مجاہد حسین کی کتاب ’’پنجابی طالبان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنف کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے۔ ان کے مطابق کتاب میں پاکستان میں 229 دہشت گرد تربیتی کیمپوں کا ذکر ہے، جن میں سے 219 پنجاب میں قائم تھے، جبکہ ان کیمپوں میں لاکھوں افراد کو تربیت دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت نہ پی ٹی آئی موجود تھی اور نہ ہی اس کی حکومت تھی۔

### محب وطن شہریوں پر غداری اور دہشت گردی کے الزامات کی مذمت

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1947 سے اب تک ملک سے مخلص افراد کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا۔ ان کے بقول اب جب ان شخصیات کے بارے میں حقائق سامنے آرہے ہیں تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد اس ملک کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ایسی پالیسی کے مخالف ہیں جو بے گناہ افراد کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالے دھن کو فروغ دیتی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ جب وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متبادل پالیسی دینے کی بات کرتے ہیں تو ان کی تجاویز پر توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے ورلڈ رول آف لا انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے۔ ان کے مطابق رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے ملک میں قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، آئین و قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور عدلیہ کو پابندیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے ظل شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں، حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق 26 نومبر، مریدکے اور دیگر واقعات نے ملک کی موجودہ صورت حال کو جنم دیا۔ انہوں نے بے گناہ کشمیریوں کے قتل کو بھی ناانصافی کی مثال قرار دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین ہوں گے تو ملک اسی قسم کے بحرانوں کا شکار رہے گا۔ آئین ایک سماجی معاہدہ ہے اور اس کی مسلسل بے حرمتی کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

### کرپشن، این ایف سی اور صوبائی حقوق کا معاملہ

سہیل آفریدی نے عالمی کرپشن انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 186 ممالک میں پاکستان کا نمبر 136 ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال بھی رجیم چینج آپریشن کے نتائج میں شامل ہے۔ ان کے مطابق رجیم چینج آپریشن کے بعد آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کی جانب سے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی 5000 ارب روپے سے زائد کی مقروض ہے اور صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں اس کا جائز حصہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا سے ہمدردی کا اظہار تو کرتی ہے، لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

انہوں نے فوجی آپریشنز سے تباہ ہونے والے گھروں کے متاثرین کے لیے چار لاکھ روپے معاوضے کے اعلان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم بھی متاثرین کو ادا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے کے پرس استعمال کرنے والے حکمران متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا اندازہ نہیں کرسکتے، جو اپنے بچوں کے ساتھ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ حکمرانوں کو ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا احساس نہیں۔ اگر وہ ایک دن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ خیموں میں گزاریں تو انہیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

### خیبرپختونخوا پولیس اور صوبائی کارکردگی کا دفاع

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں بہترین اسلحہ اور جدید ہتھیار موجود ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی پولیس میں کرپشن کی شرح سب سے کم ہے اور خیبرپختونخوا نے ڈیجیٹل گورننس میں بھی ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو بہترین کارکردگی کے حوالے سے پہلی پوزیشن حاصل ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق عمران خان انہی وسائل کے ساتھ وزیراعظم تھے، لیکن ان کے دور میں ملک ترقی کر رہا تھا، کیونکہ ان کا وژن انصاف پر مبنی تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ لٹیروں، غداروں اور ظالموں کو اقتدار میں لانے سے پاکستان کی ترقی کا سفر رک گیا۔

### آزاد خارجہ پالیسی اور علاقائی تجارت پر زور

سہیل آفریدی نے کہا کہ ناکام خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے ذریعے سالانہ 100 ارب ڈالر کی کاروباری سرگرمیاں اور 27000 ارب روپے کی آمدن ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں تجارت اور معاشی ترقی کے لیے طاقتور اشرافیہ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا ہوگا۔ آزاد خارجہ پالیسی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ملک کو موجودہ بحران سے صرف عمران خان نکال سکتے ہیں۔

### حکمرانوں پر تنقید اور انقلاب کے لیے عوامی جدوجہد کی اپیل

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرپٹ اور غدار قیادت کو پاکستان پر مسلط کرنے والوں کو ماضی کے حقائق یاد رکھنے چاہئیں۔ ان کے مطابق آج اقتدار میں موجود بعض افراد نے اسمبلی کے فلور پر اپنے اداروں کے خلاف نعرے لگائے اور ایسے بیانات دیے جن سے ملک کی بدنامی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فوج نے ان کی ہڈیاں تک چبا لی ہیں، نہ ہی عالمی میڈیا کو انٹرویو دے کر پاکستان کو کسی گندے کھیل کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول انہوں نے کبھی سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کیا، جبکہ آج اقتدار میں موجود بعض افراد ماضی میں ایسے اقدامات میں ملوث رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ انقلاب کے لیے لاکھوں افراد کا ہونا ضروری نہیں۔ انہوں نے چین، ایران اور روس کے انقلابات کی مثالیں دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چین اور ایران کے انقلابات میں 10، 10 ہزار، جبکہ روس کے انقلاب میں 23 ہزار افراد شامل تھے۔

انہوں نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی، قومی خودمختاری، قانون کی حکمرانی اور ملک میں انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔