الف کالج مردان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق آگہی سیشن
🗓 17 Sep 2026
الف کالج مردان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق آگہی سیشن
مردان: الف کالج فار گرلز مردان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، افادیت اور اس سے وابستہ چیلنجز کے حوالے سے آگہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کے نیشنل جیوگرافیکل انفارمیشن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی ظاہر نے طالبات کو مصنوعی ذہانت کے جدید رجحانات اور اس کے مثبت و مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلی لیکچر دیا۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی طاہر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک مشین لرننگ نظام ہے، جو مثالوں اور فراہم کردہ ڈیٹا سے سیکھتا ہے اور مختلف پیٹرنز کی بنیاد پر نتائج پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو فراہم کی جانے والی معلومات اور فیڈ بیک کے ذریعے اس کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور مطالعے میں مصنوعی ذہانت سے بطور معاون فائدہ اٹھائیں، تاہم اے آئی اور سوشل میڈیا پر مکمل انحصار سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو مقصد کا متبادل بنانے کے بجائے اسے اپنی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر علی طاہر نے مصنوعی ذہانت کے معاشی اور روزگار کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے وابستہ بعض ایپلی کیشنز اپنی سبسکرپشنز کے ذریعے ماہانہ کروڑوں ڈالر آمدن حاصل کر رہی ہیں، جبکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی تعداد میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کا غلام بننے کے بجائے انہیں اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
اس موقع پر الف سکول اینڈ کالج کی پراجیکٹ منیجر مہر النساء اکبر اور پرنسپل ڈاکٹر صدف قاسم نے بھی خطاب کیا اور ادارے کے وژن اور مشن کے بارے میں شرکاء کو تفصیلی آگاہ کیا۔ سیشن میں طالبات نے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس سے متعلق مختلف امور میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
مردان: الف کالج فار گرلز مردان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، افادیت اور اس سے وابستہ چیلنجز کے حوالے سے آگہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کے نیشنل جیوگرافیکل انفارمیشن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی ظاہر نے طالبات کو مصنوعی ذہانت کے جدید رجحانات اور اس کے مثبت و مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلی لیکچر دیا۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی طاہر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک مشین لرننگ نظام ہے، جو مثالوں اور فراہم کردہ ڈیٹا سے سیکھتا ہے اور مختلف پیٹرنز کی بنیاد پر نتائج پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو فراہم کی جانے والی معلومات اور فیڈ بیک کے ذریعے اس کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور مطالعے میں مصنوعی ذہانت سے بطور معاون فائدہ اٹھائیں، تاہم اے آئی اور سوشل میڈیا پر مکمل انحصار سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو مقصد کا متبادل بنانے کے بجائے اسے اپنی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر علی طاہر نے مصنوعی ذہانت کے معاشی اور روزگار کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے وابستہ بعض ایپلی کیشنز اپنی سبسکرپشنز کے ذریعے ماہانہ کروڑوں ڈالر آمدن حاصل کر رہی ہیں، جبکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی تعداد میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کا غلام بننے کے بجائے انہیں اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
اس موقع پر الف سکول اینڈ کالج کی پراجیکٹ منیجر مہر النساء اکبر اور پرنسپل ڈاکٹر صدف قاسم نے بھی خطاب کیا اور ادارے کے وژن اور مشن کے بارے میں شرکاء کو تفصیلی آگاہ کیا۔ سیشن میں طالبات نے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس سے متعلق مختلف امور میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔