سمارٹ لاک ڈاون اور ایف بی ار پالیسو ں کے خلاف تاجروں کا شدید اجتجاج
🗓 13 May 2026
مردان(نمائندہ خصو صی)مرکزی تنظیم تاجران ظاہرگروپ کا سمارٹ لاک ڈاون، ایف بی آر کے نارواں ٹیکسز، ٹوبیکو ٹیکس، بجلی اور گیس کے بلوں میں نارواں ٹیکسوں کے خلاف مردان چیمبر سے لیکر کچہری چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جہاں وہ جلوس کی شکل اختیار کرگئی۔ریلی کی قیادت مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری اور صوبائی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا ظاہر شاہ اور دیگر نے کی۔اس موقع پر وقار علی باچہ، غلام سرور صراف، صاحبزادہ، وحید گل، طارق خان، وہاب یوسفی، اسد جمال، بخت منیر، اسد خان، آصف اقبال، عابد، مراد، ملک نجیب اللہ، فقیر صراف، شمشیرخان، عارف، فضل واحد، غلام قادر،ناصرلالا، واجد،امجد، فرہاد اوردیگر موجود تھے۔اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ تک ملک بھر میں نافذ سمارٹ لاک ڈاؤن فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک بھر کے تاجروں کا عید قربان کے لیے خریدا گیا اربوں روپے کا مال فروخت نہیں ہو پا رہا جبکہ ایف بی آر اصلاحات کے نام پر پوائنٹ آف سیلز، جرمانوں اور گرفتاریوں کے ذریعے تاجروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، اضافی ٹیکسز، بھاری بلوں، پیرا فورسز کے ناروا رویے نے تاجروں کا جینا محال کردیا ہے۔ظاہر شاہ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ پالیسیاں تاجروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے وقت لاک ڈاؤن نافذ ہونے سے گاہک مارکیٹوں کا رخ نہیں کر پا رہے جبکہ تاجر عید قربان کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہزاروں چھوٹے تاجر مالی تباہی کا شکار ہو جائیں گے۔انہوں نے ایف بی آر کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات اور تنظیم نو کے نام پر تاجروں کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے۔ پوائنٹ آف سیلز کے نام پر چھوٹے دکانداروں کی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں، جرمانے کیے جا رہے ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل نے رشوت اور کرپشن کے ایک نئے نظام کو جنم دیا ہے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکسز اور آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس کے نام پر ادائیگیاں عوام اور تاجروں پر اضافی بوجھ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے لیے دکانوں کے کرائے، بجلی کے بل اور بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔