افغانستان سے منسلک سگریٹ برانڈزکی پاکستان میں سمگلنگ۔ایف بی ار نوٹس لیں
🗓 22 Jul 2026
*اسلام آباد: اے سی ٹی الائنس پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان سے منسلک سگریٹ برانڈز کی پاکستان میں اسمگلنگ میں ملوث ایک وسیع اور انتہائی منظم نیٹ ورک قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کے ٹیکس سے محروم کر رہا ہے، جبکہ یہ معاملہ ملکی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے*۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان میں اسمگل ہونے والے معروف سگریٹ برانڈز Milano اور Mond مبینہ طور پر گلبہار ٹوبیکو کمپنی تیار کرتی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی ملکیت ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی اس وقت دبئی اور روس میں بھی سگریٹ بنانے کے کارخانے چلا رہی ہے۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان کے مطابق اس گروپ کا کاروباری نیٹ ورک افغانستان، متحدہ عرب امارات، یورپ، برطانیہ، روس اور پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس گروپ کی کاروباری دلچسپیاں سگریٹ سازی، تجارت، سرمایہ کاری، ہوٹلنگ، رئیل اسٹیٹ، سیمنٹ انڈسٹری، توانائی، پن بجلی اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محیط ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان سے منسلک اس قدر منظم اسمگلنگ کا ڈھانچہ جاسوسی، دہشت گردی، غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو محض ٹیکس چوری یا سگریٹ اسمگلنگ تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پاکستان کی قومی سلامتی کا ایک اہم مسئلہ تصور کیا جائے۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان نے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاکستان کسٹمز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مبینہ نیٹ ورک کی جامع تحقیقات کریں، اس سے منسلک منی لانڈرنگ کے ذرائع کا خاتمہ کریں اور افغانستان سے وابستہ اسمگل شدہ سگریٹوں کی ملک گیر تقسیم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائیں۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان میں اسمگل ہونے والے معروف سگریٹ برانڈز Milano اور Mond مبینہ طور پر گلبہار ٹوبیکو کمپنی تیار کرتی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی ملکیت ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی اس وقت دبئی اور روس میں بھی سگریٹ بنانے کے کارخانے چلا رہی ہے۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان کے مطابق اس گروپ کا کاروباری نیٹ ورک افغانستان، متحدہ عرب امارات، یورپ، برطانیہ، روس اور پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس گروپ کی کاروباری دلچسپیاں سگریٹ سازی، تجارت، سرمایہ کاری، ہوٹلنگ، رئیل اسٹیٹ، سیمنٹ انڈسٹری، توانائی، پن بجلی اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محیط ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان سے منسلک اس قدر منظم اسمگلنگ کا ڈھانچہ جاسوسی، دہشت گردی، غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو محض ٹیکس چوری یا سگریٹ اسمگلنگ تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پاکستان کی قومی سلامتی کا ایک اہم مسئلہ تصور کیا جائے۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان نے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاکستان کسٹمز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مبینہ نیٹ ورک کی جامع تحقیقات کریں، اس سے منسلک منی لانڈرنگ کے ذرائع کا خاتمہ کریں اور افغانستان سے وابستہ اسمگل شدہ سگریٹوں کی ملک گیر تقسیم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائیں۔