سناعٹ لاک ڈاون ختم کیا جائیں۔تمباکو سے وابستہ صعنتکاروں اور زمینداروں کو بے جا تنگ نہ جائیں صدر ظاہر شاہ
🗓 11 May 2026
مردان(نما ئندہ خصو صی ) تاجروں کا سمارٹ لاک ڈاؤن اور ٹیکس نظام کے خلاف احتجاج کا اعلان
مرکزی تنظیم تاجران کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور مردان چیمبر کے گروپ لیڈر ظاہر شاہ نے مردان چیمبر کے نائب صدر صاحب زادہ، تنظیم تاجران کے ضلعی جنرل سیکرٹری وقار باچہ اور صرافہ اینڈ جیولرز کے مرکزی رہنما فقیر محمد صراف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عید کی آمد کے پیش نظر سمارٹ لاک ڈاؤن فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ اس سے تاجروں کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے جبکہ عوام کو بھی دکانیں جلد بند ہونے کی وجہ سے خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ظاہر شاہ نے کہا کہ ایف بی آر کا موجودہ ٹیکس نظام پیچیدہ اور تاجروں کے لیے مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔ انہوں نے فکسڈ ٹیکسیشن نظام کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے ساتھ باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان مطالبات کے حق میں 12 مئی کو مردان میں تاجر احتجاج کریں گے، جس سے مرکزی صدر کاشف چوہدری، صوبائی صدر شرافت اللہ مبارک اور دیگر مقامی قائدین خطاب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں احتجاج کا دائرہ صوبائی اور قومی سطح تک وسیع کیا جائے گا۔
ظاهر شاہ نے کہا کہ دیگر صوبوں کی کیش کراپس جیسے کھجور، گندم اور دیگر زرعی اجناس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی تمباکو کی پیداوار پر مسلسل نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر اور رینجرز کے ذریعے فیکٹری مالکان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سولر سسٹمز سے بڑی مقدار میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ “معرکہ حق” میں کامیابی کے بعد اب “معرکہ معیشت” کے تحت عوام اور تاجروں کو فوری ریلیف اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
مرکزی تنظیم تاجران کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور مردان چیمبر کے گروپ لیڈر ظاہر شاہ نے مردان چیمبر کے نائب صدر صاحب زادہ، تنظیم تاجران کے ضلعی جنرل سیکرٹری وقار باچہ اور صرافہ اینڈ جیولرز کے مرکزی رہنما فقیر محمد صراف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عید کی آمد کے پیش نظر سمارٹ لاک ڈاؤن فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ اس سے تاجروں کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے جبکہ عوام کو بھی دکانیں جلد بند ہونے کی وجہ سے خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ظاہر شاہ نے کہا کہ ایف بی آر کا موجودہ ٹیکس نظام پیچیدہ اور تاجروں کے لیے مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔ انہوں نے فکسڈ ٹیکسیشن نظام کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے ساتھ باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان مطالبات کے حق میں 12 مئی کو مردان میں تاجر احتجاج کریں گے، جس سے مرکزی صدر کاشف چوہدری، صوبائی صدر شرافت اللہ مبارک اور دیگر مقامی قائدین خطاب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں احتجاج کا دائرہ صوبائی اور قومی سطح تک وسیع کیا جائے گا۔
ظاهر شاہ نے کہا کہ دیگر صوبوں کی کیش کراپس جیسے کھجور، گندم اور دیگر زرعی اجناس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی تمباکو کی پیداوار پر مسلسل نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر اور رینجرز کے ذریعے فیکٹری مالکان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سولر سسٹمز سے بڑی مقدار میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ “معرکہ حق” میں کامیابی کے بعد اب “معرکہ معیشت” کے تحت عوام اور تاجروں کو فوری ریلیف اور سہولیات فراہم کی جائیں۔