ملٹی ٹا سکنگ ۔انسانی شخصییت یا معاشرے کیلئے سود مند ھے۔آپ اس تحریر کو غور سے پڑ ھیئں !
🗓 02 May 2026
تحریر شاہ ناصر
*ملٹی ٹاسکنگ کا وہم اور توجہ کے زوال کا بحران*
آج کی تیز رفتار اور ڈیجیٹل طور پر جڑی ہوئی دنیا میں “ملٹی ٹاسکنگ” کو کامیابی کی ایک اہم مہارت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ ماحول میں اسے سراہا جاتا ہے کہ ایک شخص بیک وقت ای میلز، میٹنگز، پیغامات اور مختلف کام سنبھال سکے۔ نوجوان نسل، جو اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے، یہ سمجھنے لگتی ہے کہ ایک ساتھ کئی کام کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ لیکن اس مقبول سوچ کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت نظر انداز ہو جاتی ہے: انسانی دماغ پیچیدہ ذہنی کاموں میں حقیقی طور پر ایک وقت میں کئی کام نہیں کر سکتا۔
درحقیقت دماغ ایک کام سے دوسرے کام کی طرف تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ ہر بار یہ تبدیلی ذہنی توانائی خرچ کرتی ہے، توجہ کمزور کرتی ہے، غلطیوں میں اضافہ کرتی ہے اور گہری سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ مسلسل بکھراؤ ایک بنیادی انسانی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے: مسلسل اور گہری توجہ۔
تاریخی حقیقت: کامیابی ہمیشہ فوکس سے بنی
تاریخ ہمیں یہ واضح سبق دیتی ہے کہ ترقی اور کامیابی کبھی بھی منتشر توجہ سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ گہری اور مسلسل توجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
Thomas Edison نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک وقت میں ایک ہی مسئلے پر تحقیق کرتے ہوئے گزارا۔ ان کی کامیابی بیک وقت کئی کام کرنے سے نہیں بلکہ مسلسل تجربات اور مکمل توجہ سے حاصل ہوئی۔
اسی طرح Abdul Sattar Edhi نے اپنی پوری زندگی ایک ہی مشن یعنی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی توجہ کا تسلسل ایک ایسا نظام بنا گیا جو آج بھی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی روایتی معیشت بھی اسی اصول پر قائم تھی کہ ایک فرد ایک ہنر میں مہارت حاصل کرے۔ بڑھئی، لوہار، کسان یا دستکار اپنی پوری زندگی ایک ہی کام کو بہتر بنانے میں لگا دیتے تھے۔ اس سے معیار بھی بہتر ہوتا تھا اور معاشی استحکام بھی پیدا ہوتا تھا۔
حتیٰ کہ جدید صنعتی نظام جیسے Fordism بھی واضح طور پر کاموں کی تقسیم اور مخصوص ذمہ داریوں پر مبنی تھے، جس سے پیداوار اور معیار میں اضافہ ہوا۔
یہ تمام مثالیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں: توجہ کامیابی پیدا کرتی ہے، جبکہ بکھراؤ اسے کمزور کر دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کی تبدیلی: مہارت سے سطحیت تک
آج کا ڈیجیٹل ماحول اس ماڈل کو تبدیل کر رہا ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور فوری رابطے کے ذرائع مسلسل انسانی توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ نوٹیفکیشنز، پیغامات اور غیر ختم ہونے والا مواد ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں توجہ بار بار ٹوٹتی رہتی ہے۔
نوجوان اب ایک ہی مہارت میں مہارت حاصل کرنے کے بجائے کئی کاموں میں سطحی طور پر مصروف رہتے ہیں۔ وقت جو گہری سیکھنے اور مہارت حاصل کرنے میں لگنا چاہیے، وہ ڈیجیٹل خلفشار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک “گہرائی کا بحران” پیدا ہوتا ہے، جہاں افراد پیچیدہ مسائل کو حل کرنے یا معیاری کام کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
مستقبل کے خطرات: یہ مسئلہ کیوں سنگین ہے
اگر یہی رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری معیشت، معاشرے اور اداروں کو متاثر کریں گے۔
معاشی سطح پر ممالک کو ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہوگا۔ انجینئرنگ، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر تکنیکی شعبے کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے پیداوار اور عالمی مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
جدت اور تحقیق بھی متاثر ہوگی۔ گہری سوچ اور مسلسل محنت کے بغیر نئے خیالات پیدا نہیں ہوتے۔ نتیجتاً معاشرے نقل پر انحصار کرتے رہیں گے اور اصل اختراع کم ہوتی جائے گی۔
سماجی سطح پر ذہنی دباؤ، بے چینی اور مقصد کے احساس کی کمی بڑھ سکتی ہے۔ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت ایک ایسا چکر پیدا کرتی ہے جس میں انسان مصروف تو رہتا ہے لیکن مطمئن نہیں ہوتا۔
اداروں کی سطح پر بھی اثرات خطرناک ہیں۔ مستقبل کے پالیسی ساز اور انجینئر اگر گہری توجہ کے قابل نہ رہے تو منصوبہ بندی کمزور ہو سکتی ہے اور حکمرانی کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
ثقافتی طور پر بھی ہنر اور دستکاری کی روایت کمزور ہو سکتی ہے، جس سے معاشروں کی پہچان اور استحکام متاثر ہوتا ہے۔
حل: توجہ کو دوبارہ مرکز بنانا
اس بحران سے نکلنے کے لیے اجتماعی سطح پر سوچ اور پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔
سب سے پہلے “ایک شخص، ایک کام” کے اصول کو دوبارہ فروغ دینا ہوگا تاکہ افراد مہارت اور تخصص حاصل کر سکیں۔
تعلیمی نظام میں گہری سیکھنے، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے پر زور دینا ہوگا۔
ڈیجیٹل استعمال کے حوالے سے آگاہی اور ممکنہ ضابطہ بندی ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کی توجہ محفوظ رہے۔
کام کی جگہوں پر بھی ایسی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا جہاں معیار کو سرگرمی پر ترجیح دی جائے۔
نتیجہ: بکھراؤ یا گہرائی کا انتخاب
اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی یا جدید نظام غلط ہیں یا صحیح، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں کیسے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جو مسلسل بکھری ہوئی توجہ کو معمول بناتا ہے وہ مصروف مگر غیر مؤثر افراد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو معاشرہ گہری توجہ اور مہارت کو ترجیح دیتا ہے وہ جدت، قیادت اور ترقی پیدا کرتا ہے۔
آخرکار انتخاب ہمارے سامنے ہے:
کیا ہم ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں لوگ بہت کچھ کریں مگر کم حاصل کریں، یا ایسا جہاں کم کام کریں مگر بہترین کریں؟
*ملٹی ٹاسکنگ کا وہم اور توجہ کے زوال کا بحران*
آج کی تیز رفتار اور ڈیجیٹل طور پر جڑی ہوئی دنیا میں “ملٹی ٹاسکنگ” کو کامیابی کی ایک اہم مہارت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ ماحول میں اسے سراہا جاتا ہے کہ ایک شخص بیک وقت ای میلز، میٹنگز، پیغامات اور مختلف کام سنبھال سکے۔ نوجوان نسل، جو اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے، یہ سمجھنے لگتی ہے کہ ایک ساتھ کئی کام کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ لیکن اس مقبول سوچ کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت نظر انداز ہو جاتی ہے: انسانی دماغ پیچیدہ ذہنی کاموں میں حقیقی طور پر ایک وقت میں کئی کام نہیں کر سکتا۔
درحقیقت دماغ ایک کام سے دوسرے کام کی طرف تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ ہر بار یہ تبدیلی ذہنی توانائی خرچ کرتی ہے، توجہ کمزور کرتی ہے، غلطیوں میں اضافہ کرتی ہے اور گہری سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ مسلسل بکھراؤ ایک بنیادی انسانی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے: مسلسل اور گہری توجہ۔
تاریخی حقیقت: کامیابی ہمیشہ فوکس سے بنی
تاریخ ہمیں یہ واضح سبق دیتی ہے کہ ترقی اور کامیابی کبھی بھی منتشر توجہ سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ گہری اور مسلسل توجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
Thomas Edison نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک وقت میں ایک ہی مسئلے پر تحقیق کرتے ہوئے گزارا۔ ان کی کامیابی بیک وقت کئی کام کرنے سے نہیں بلکہ مسلسل تجربات اور مکمل توجہ سے حاصل ہوئی۔
اسی طرح Abdul Sattar Edhi نے اپنی پوری زندگی ایک ہی مشن یعنی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی توجہ کا تسلسل ایک ایسا نظام بنا گیا جو آج بھی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی روایتی معیشت بھی اسی اصول پر قائم تھی کہ ایک فرد ایک ہنر میں مہارت حاصل کرے۔ بڑھئی، لوہار، کسان یا دستکار اپنی پوری زندگی ایک ہی کام کو بہتر بنانے میں لگا دیتے تھے۔ اس سے معیار بھی بہتر ہوتا تھا اور معاشی استحکام بھی پیدا ہوتا تھا۔
حتیٰ کہ جدید صنعتی نظام جیسے Fordism بھی واضح طور پر کاموں کی تقسیم اور مخصوص ذمہ داریوں پر مبنی تھے، جس سے پیداوار اور معیار میں اضافہ ہوا۔
یہ تمام مثالیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں: توجہ کامیابی پیدا کرتی ہے، جبکہ بکھراؤ اسے کمزور کر دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کی تبدیلی: مہارت سے سطحیت تک
آج کا ڈیجیٹل ماحول اس ماڈل کو تبدیل کر رہا ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور فوری رابطے کے ذرائع مسلسل انسانی توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ نوٹیفکیشنز، پیغامات اور غیر ختم ہونے والا مواد ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں توجہ بار بار ٹوٹتی رہتی ہے۔
نوجوان اب ایک ہی مہارت میں مہارت حاصل کرنے کے بجائے کئی کاموں میں سطحی طور پر مصروف رہتے ہیں۔ وقت جو گہری سیکھنے اور مہارت حاصل کرنے میں لگنا چاہیے، وہ ڈیجیٹل خلفشار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک “گہرائی کا بحران” پیدا ہوتا ہے، جہاں افراد پیچیدہ مسائل کو حل کرنے یا معیاری کام کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
مستقبل کے خطرات: یہ مسئلہ کیوں سنگین ہے
اگر یہی رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری معیشت، معاشرے اور اداروں کو متاثر کریں گے۔
معاشی سطح پر ممالک کو ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہوگا۔ انجینئرنگ، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر تکنیکی شعبے کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے پیداوار اور عالمی مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
جدت اور تحقیق بھی متاثر ہوگی۔ گہری سوچ اور مسلسل محنت کے بغیر نئے خیالات پیدا نہیں ہوتے۔ نتیجتاً معاشرے نقل پر انحصار کرتے رہیں گے اور اصل اختراع کم ہوتی جائے گی۔
سماجی سطح پر ذہنی دباؤ، بے چینی اور مقصد کے احساس کی کمی بڑھ سکتی ہے۔ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت ایک ایسا چکر پیدا کرتی ہے جس میں انسان مصروف تو رہتا ہے لیکن مطمئن نہیں ہوتا۔
اداروں کی سطح پر بھی اثرات خطرناک ہیں۔ مستقبل کے پالیسی ساز اور انجینئر اگر گہری توجہ کے قابل نہ رہے تو منصوبہ بندی کمزور ہو سکتی ہے اور حکمرانی کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
ثقافتی طور پر بھی ہنر اور دستکاری کی روایت کمزور ہو سکتی ہے، جس سے معاشروں کی پہچان اور استحکام متاثر ہوتا ہے۔
حل: توجہ کو دوبارہ مرکز بنانا
اس بحران سے نکلنے کے لیے اجتماعی سطح پر سوچ اور پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔
سب سے پہلے “ایک شخص، ایک کام” کے اصول کو دوبارہ فروغ دینا ہوگا تاکہ افراد مہارت اور تخصص حاصل کر سکیں۔
تعلیمی نظام میں گہری سیکھنے، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے پر زور دینا ہوگا۔
ڈیجیٹل استعمال کے حوالے سے آگاہی اور ممکنہ ضابطہ بندی ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کی توجہ محفوظ رہے۔
کام کی جگہوں پر بھی ایسی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا جہاں معیار کو سرگرمی پر ترجیح دی جائے۔
نتیجہ: بکھراؤ یا گہرائی کا انتخاب
اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی یا جدید نظام غلط ہیں یا صحیح، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں کیسے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جو مسلسل بکھری ہوئی توجہ کو معمول بناتا ہے وہ مصروف مگر غیر مؤثر افراد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو معاشرہ گہری توجہ اور مہارت کو ترجیح دیتا ہے وہ جدت، قیادت اور ترقی پیدا کرتا ہے۔
آخرکار انتخاب ہمارے سامنے ہے:
کیا ہم ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں لوگ بہت کچھ کریں مگر کم حاصل کریں، یا ایسا جہاں کم کام کریں مگر بہترین کریں؟