عبد ا لو لی خان یو نیو ر سٹی مردان میں سو لر ائزیشن منصو بے کا افتتاح۔وزیر ایچ ای ڈی مینا خان ا فر یدی نے ا فتتاح کیا
🗓 23 Apr 2026
*مردان: عبدالولی خان یونیورسٹی میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح، تعلیمی اصلاحات پر بریفنگ*
مردان ،صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مینا خان آفریدی نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیو اکیڈمک بلاک میں سولرائزیشن منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد، اراکینِ اسمبلی طفیل انجم، ظاہر شاہ طورو، زرشاد خان اور عبدالسلام آفریدی ،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر محمد اسرار سمیت یونیورسٹی حکام موجود تھے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سولرائزیشن منصوبے پر مجموعی طور پر 35 ملین روپے لاگت آئی ہے، جس سے یونیورسٹی کو ماہانہ بجلی کے بل میں تقریباً 4 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں پہلی بار بلیک بورڈ سافٹ ویئر متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ای آر پی سسٹم کامیابی سے لانچ کیا جا چکا ہے جس سے طلبہ کی تمام فیسیں آن لائن کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ریڈیو اور ٹی وی کا اجر کیا جائے گا، رواں سال 11 ریسرچ پراجیکٹس کی منظوری دی جا چکی ہے۔ فارم ڈی پروگرام کی نشستیں 100 سے بڑھا کر 200 کر دی گئی ہیں اور اس کے لیے نئی عمارت بھی مختص کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ سمسٹر میں 3790 طلبہ فارغ التحصیل ہوئے جبکہ 3800 نئے طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کیے گئے ریسرچ پروجیکٹس کی کمرشلائزیشن عنقریب ہو جائے گی اور یونیورسٹی پروڈکٹس جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔ مزید برآں، یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس نے رواں سال 25 لاکھ روپے آمدنی حاصل کی ہے جبکہ شریعہ لاء اور الائیڈ سائنس سکول کے قیام پر بھی غور جاری ہے۔
دورے کے دوران صوبائی وزیر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، خصوصاً فش فارمنگ کے لیے قائم فش پانڈ کا دورہ کیا جہاں انہیں ڈاکٹر قیاش اور ڈاکٹر طارق محمود نے بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ یونیورسٹی اس وقت برازیل اور ویتنام کی مچھلیوں پر تحقیق کر رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے اپنے فنڈ سے یونیورسٹی میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے 110 ملین روپے اورہاسٹل منصوبے پر 113 ملین روپے کی رضامندی ظاہر کر دی۔
صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولرائزیشن جیسے منصوبے نہ صرف اخراجات میں کمی لاتے ہیں بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی تمام جامعات میں ڈیجیٹلائزیشن، ریسرچ کلچر کے فروغ اور طلبہ کو جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو ہنر اور تحقیق کے مواقع فراہم کر کے ہی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر نے وائس چانسلر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے اور حکومت اس طرح کے اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔
مردان ،صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مینا خان آفریدی نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیو اکیڈمک بلاک میں سولرائزیشن منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد، اراکینِ اسمبلی طفیل انجم، ظاہر شاہ طورو، زرشاد خان اور عبدالسلام آفریدی ،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر محمد اسرار سمیت یونیورسٹی حکام موجود تھے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سولرائزیشن منصوبے پر مجموعی طور پر 35 ملین روپے لاگت آئی ہے، جس سے یونیورسٹی کو ماہانہ بجلی کے بل میں تقریباً 4 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں پہلی بار بلیک بورڈ سافٹ ویئر متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ای آر پی سسٹم کامیابی سے لانچ کیا جا چکا ہے جس سے طلبہ کی تمام فیسیں آن لائن کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ریڈیو اور ٹی وی کا اجر کیا جائے گا، رواں سال 11 ریسرچ پراجیکٹس کی منظوری دی جا چکی ہے۔ فارم ڈی پروگرام کی نشستیں 100 سے بڑھا کر 200 کر دی گئی ہیں اور اس کے لیے نئی عمارت بھی مختص کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ سمسٹر میں 3790 طلبہ فارغ التحصیل ہوئے جبکہ 3800 نئے طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کیے گئے ریسرچ پروجیکٹس کی کمرشلائزیشن عنقریب ہو جائے گی اور یونیورسٹی پروڈکٹس جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔ مزید برآں، یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس نے رواں سال 25 لاکھ روپے آمدنی حاصل کی ہے جبکہ شریعہ لاء اور الائیڈ سائنس سکول کے قیام پر بھی غور جاری ہے۔
دورے کے دوران صوبائی وزیر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، خصوصاً فش فارمنگ کے لیے قائم فش پانڈ کا دورہ کیا جہاں انہیں ڈاکٹر قیاش اور ڈاکٹر طارق محمود نے بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ یونیورسٹی اس وقت برازیل اور ویتنام کی مچھلیوں پر تحقیق کر رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے اپنے فنڈ سے یونیورسٹی میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے 110 ملین روپے اورہاسٹل منصوبے پر 113 ملین روپے کی رضامندی ظاہر کر دی۔
صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولرائزیشن جیسے منصوبے نہ صرف اخراجات میں کمی لاتے ہیں بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی تمام جامعات میں ڈیجیٹلائزیشن، ریسرچ کلچر کے فروغ اور طلبہ کو جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو ہنر اور تحقیق کے مواقع فراہم کر کے ہی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر نے وائس چانسلر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے اور حکومت اس طرح کے اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔