📅 پیر، 02-11-2026 فیس بک یوٹیوب
ڈیلی اکثریتDaily Aksriyat
سچائی کی آواز — تازہ ترین خبریں اور روزنامہ
تازہ ترین

تجاوزات کے خلاف مہم: سڑکیں کھل گئیں، اب شہری سہولتوں پر توجہ دیں

🗓 02 Nov 2026
تجاوزات کے خلاف مہم: سڑکیں کھل گئیں، اب شہری سہولتوں پر توجہ دیں
تجاوزات کے خلاف مہم: سڑکیں کھل گئیں، اب شہری سہولتوں پر توجہ دیں

مردان میں تاجروں کو تین دن کی مہلت، صوبے بھر میں آپریشن جاری؛ بجلی کے کھمبے، ریڑھیاں اور رکشے اب بھی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ

تحریر: شمس الحق
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ مردان کے چمتار بس ٹرمینل پر اختتام پذیر ہوا یا کر دیا گیا جس کے بعد برسر اقتدار جماعت کی قیادت اور ارکان اسمبلی بڑی حد تک منظر سے غائب ہوگئے۔ رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو بھی مبینہ طور پر ان کے گھر کے قریب سے اٹھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ دیگر رہنماؤں کی عدم موجودگی بھی سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

گورنر راج کے نفاذ کے اگلے ہی روز صوبے بھر میں انتظامیہ اور پولیس کے محکموں میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی۔ نئے تعینات ہونے والے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں نے فوری طور پر اپنے عہدوں کا چارج سنبھالا اور سرکاری محکموں، بالخصوص ٹی ایم ایز اور واٹر سپلائی کمپنیوں کو متحرک کردیا گیا۔ اس انتظامی فعالیت کا نمایاں مظاہرہ ناجائز تجاوزات کے خلاف شروع ہونے والی مہم کی صورت میں سامنے آیا، جس کا دائرہ صوبے کے طول و عرض تک پھیلا ہوا ہے۔

تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن

صوبے کے مختلف شہروں میں تجاوزات کے خلاف جس تیزی اور منصوبہ بندی سے کارروائیاں شروع کی گئیں، اس نے دکانداروں اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو سنبھلنے کا زیادہ موقع نہیں دیا۔ بازاروں، سڑکوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم عارضی اور مستقل تجاوزات ہٹانے کے لیے انتظامیہ نے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔

مردان میں تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے کمشنر مردان سید محمد علی شاہ سے رابطہ کرکے تجاوزات رضاکارانہ طور پر ہٹانے کے لیے مہلت طلب کی۔ کمشنر نے تاجروں کے مطالبے پر تین دن کی مہلت دے دی، جو انتظامیہ اور تاجر برادری کے درمیان معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ایک قابل ذکر مثال ہے۔

تاہم، مقررہ مہلت کے بعد مردان شہر، اس کے مضافاتی علاقوں اور چاروں تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنروں کی قیادت میں اینٹی انکروچمنٹ اسکواڈز نے کارروائیاں تیز کردیں۔ بازاروں اور اہم سڑکوں پر قائم تجاوزات ہٹانے کا عمل تاحال جاری ہے۔

اس دوران بعض مقامات پر تاجر برادری کے رہنماؤں کی جانب سے تحفظات اور شکایات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر مہم پُرامن انداز میں جاری ہے اور عام شہریوں کی جانب سے اسے پذیرائی مل رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تجاوزات کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے، پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آنے اور بازاروں میں آمدورفت محدود ہونے کی شکایات ایک عرصے سے موجود تھیں۔

بجلی کے کھمبے بھی راستے کی رکاوٹ

تجاوزات کے خاتمے کے بعد ایک اہم مسئلہ بھی نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے، جس پر متعلقہ حکام کی فوری توجہ ضروری ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور بازاروں سے تجاوزات ہٹانے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ بجلی کے متعدد کھمبے ایسی جگہوں پر نصب ہیں جو ٹریفک کی روانی اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

یہ کھمبے برسوں سے انہی مقامات پر موجود ہیں، لیکن تجاوزات کی موجودگی میں ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات پر مناسب توجہ نہیں دی جاسکی۔ اب جب سڑکوں اور گزرگاہوں کو کھلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو ضروری ہے کہ ان مستقل رکاوٹوں کو بھی دور کیا جائے۔

اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا اور چیف سیکریٹری سے گزارش ہے کہ وہ پیسکو اور واپڈا کے متعلقہ حکام کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں اور صوبے بھر میں سڑکوں کے کناروں پر نصب بجلی کے کھمبوں اور دیگر تنصیبات کو مناسب مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائیں۔

اگر تجاوزات تو ہٹا دی جائیں، لیکن بجلی کے کھمبے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رکاوٹ بنے رہیں تو اس مہم کے مطلوبہ نتائج پوری طرح حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کو محض عارضی آپریشن کے بجائے شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولتوں کی بہتری سے مربوط کیا جائے۔

ریڑھی بانوں کے لیے متبادل جگہیں، رکشوں کی تعداد مقرر کی جائے

شہری ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا ایک اور بڑا سبب بازاروں اور سڑکوں پر ہتھ ریڑھیوں کی بھرمار، چنگ چی رکشوں کی بے ہنگم نقل و حرکت اور تیز رفتار رکشوں کا غیر منظم استعمال ہے۔ ان مسائل کے باعث نہ صرف ٹریفک جام رہتا ہے بلکہ پیدل چلنے والوں اور دیگر گاڑیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

تاہم، ان مسائل کا حل صرف پابندیاں لگانے یا لوگوں کو روزگار سے محروم کرنے میں نہیں، بلکہ متوازن اور قابل عمل حکمت عملی اپنانے میں ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ ہر شہر میں ہتھ ریڑھی بانوں کے لیے مناسب مقامات مختص کیے جائیں، جہاں وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں اور بازاروں کی سڑکیں بھی آمدورفت کے لیے کھلی رہیں۔

اسی طرح ہر شہر کی آبادی، سڑکوں کی گنجائش اور ٹریفک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چنگ چی اور دیگر رکشوں کی مناسب تعداد مقرر کی جائے۔ ان کے لیے مخصوص اسٹینڈز، مقررہ روٹس اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا مؤثر نظام بھی متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

اس طرح ایک طرف شہریوں کو ٹریفک کے مسائل سے نجات مل سکتی ہے تو دوسری جانب ان افراد کے روزگار کا تحفظ بھی ممکن ہوگا جو ہتھ ریڑھیوں اور رکشوں کے ذریعے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

تجاوزات کا خاتمہ مستقل شہری اصلاحات سے مشروط

بلاشبہ تجاوزات کے خلاف جاری مہم شہری زندگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے سڑکیں کھلنے، بازاروں میں آمدورفت بہتر ہونے اور پیدل چلنے والوں کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، اس مہم کی کامیابی کا اصل معیار صرف تجاوزات کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان مقامات کو مستقل طور پر عوامی استعمال کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔

اس مقصد کے لیے انتظامیہ کو بجلی کے کھمبوں اور دیگر رکاوٹوں کی منتقلی، ریڑھی بانوں کے لیے متبادل جگہوں کی فراہمی، رکشوں کی منظم نقل و حرکت اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد جیسے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کو ایک جامع شہری اصلاحاتی منصوبے کا حصہ بنائیں، تاکہ سڑکیں دوبارہ تجاوزات کی زد میں نہ آئیں اور شہریوں کو دیرپا ریلیف مل سکے۔

آخرکار، کسی بھی انتظامی مہم کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے نتائج عام آدمی کی روزمرہ زندگی میں واضح بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔ عوام کو کھلی سڑکیں، محفوظ فٹ پاتھ، رواں ٹریفک اور بہتر شہری سہولتیں فراہم کرنا ہی اس مہم کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔