📅 بدھ، 22-07-2026 فیس بک یوٹیوب
ڈیلی اکثریتDaily Aksriyat
سچائی کی آواز — تازہ ترین خبریں اور روزنامہ
تازہ ترین

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرزکا ایبٹ اباد میں اھم اجلاس

🗓 20 Jul 2026
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرزکا ایبٹ اباد میں اھم اجلاس
ایبٹ آباد(پ ر)کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) خیبر پختونخوا کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز ایبٹ آباد پریس کلب میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا بالخصوص ہزارہ ڈو یژن سے شائع ہونے والے علاقائی اخبارات اور صحافیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اخبارات کے ایڈیٹرز کے علاوہ عامل صحافیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سالہا سال سے واجب الادا بقایا جات کے حوالے سے ہائی کورٹ میں دائر کیس اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کے باوجود اخبارات کو پرانے بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سی پی این ای کے پی کے کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا بالخصوص ہزارہ ڈویژن کی اخباری صنعت شدید بحران سے دوچار ہے جس سے مالکان کے ساتھ ساتھ عامل صحافیوں کو معاشی مشکلات درپیش ہیں ۔خیبر پختونخوا حکومت نے کابینہ اجلاس میں اشتہارات کی مد میں بقایا جات کی ادائیگی کے لئے ایک ارب کے فنڈ ز کی منظوری دی جس میں سے پہلی قسط کے طور پر چالیس کروڑ جاری کئے جو محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے اکائونٹ میں ہیں - ہزارہ ڈویژن سے سی پی این ای کے اراکین نے کہا کہ ریجنل اخباری صنعت کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے گزشتہ طویل عرصے سے ڈی جی محکمہ اطلاعات کی تقرری نہ ہونے سے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اجلاس میں صدر پریس کلب سردار نوید عالم ، محمد عامر شہزاد جدون (سرحد نیوز)، محمد شاہد چوہدری(روزنامہ محاسب )،سردار شفیق احمد(روزنامہ اتحاد) ،سردار محمد فیصل(روزنامہ آج )، سراج الثقلین (روزنامہ شمال)،احمد نواز خان جدون (ہزارہ نیوز)نے شرکت کی ۔چیئرمین سی پی این ای کے پی کمیٹی طاہر فاروق کا کہناتھا کہ سی پی این ای آزادی صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سے ادائیگی نہ ہونے کے باعث بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ اشتہارات کی تقسیم میں ہزارہ سے شائع ہونے والے اخبارات کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ سی پی این ای اجلاس میں بتایا گیا کہ ہزارہ سے شائع ہونے والے 15سے زاہد اخبارات حکومتی پالیسیوں کی وجہ آخری ہچکیاں لے رہے ہیں اور کارکن صحافی بھی بے روزگار ہوئے ہیں ۔ سی پی این کے پی کمیٹی اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بقایاجات کی ادائیگی کی جائے گی ، بصورت دیگر ملک گیر اجتجاج شروع کیا جائے گا ۔ سی پی این ای کے پی کے کمیٹی کے اراکین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہزارہ سے شائع ہونے والے اخبارات کو اشتہارات میں شامل کیا جائے۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات کی سینیئر آفیسر رئیسہ عادل کی بطور پرنسپل انفارمیشن آفیسر تقرری کا خیر مقدم کیا گیا اور سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کی خدمات کو سراہا گیا کہ انھوں نے علاقائی اخبارات کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے اور وفاقی حکومت کے اشتہارات میں شامل کیا ۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی اور وزیر اطلاعات شفیع جان خیبر پختونخوا سمیت محکمہ اطلاعات کے افسران سے بھی ملاقات کی جائے ۔ اجلاس کے اختتام پر سینیئر صحافی سید اعجاز حسین شاہ کی اہلیہ سید کمال حسین شاہ کی والدہ محترمہ کی وفات پر بھی تعزیت کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز