وومن یونیورسٹی مردان میں فنانس اور پلاننگ کا اھم اجلاس
🗓 19 Jun 2026
ہد ایت الر حمن ہو تی
مردان،(نما ئندہ خصو صی ): ویمن یونیورسٹی مردان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کی زیرِ صدارت فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کا 19واں اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد سنڈیکیٹ کا 30واں اجلاس بھی کامیابی سے منعقد کیا گیا۔
فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے یونیورسٹی کی مالی صورتحال اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور مجوزہ بجٹ منظوری کے لیے سنڈیکیٹ کو پیش کرنے کی سفارش کی۔
بعد ازاں منعقدہ 30ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں اراکین نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ سنڈیکیٹ نے اپنے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی توثیق بھی کی اور مختلف انتظامی و تعلیمی امور پر غور کیا۔
اجلاسوں کی ایک اہم کامیابی مالی سال 2026-27 کے ریکرنگ بجٹ تخمینوں کی منظوری تھی، جنہیں مزید منظوری کے لیے ویمن یونیورسٹی مردان کی سینیٹ کو ارسال کیا جائے گا۔ منظور شدہ بجٹ کے مطابق یونیورسٹی کے کل دستیاب وسائل 980.30 ملین روپے ہیں، جبکہ متوقع اخراجات 798.65 ملین روپے ہوں گے، جس کے نتیجے میں 181.65 ملین روپے کا سرپلس حاصل ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ یونیورسٹی نے اپنے اینڈومنٹ/ریزرو فنڈ کو کامیابی کے ساتھ 300 ملین روپے تک مستحکم کر لیا ہے، جو ادارے کے مالی استحکام، ترقی، تعلیمی معیار اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے عزم کا مظہر ہے۔
سنڈیکیٹ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے رجسٹرار جناب عدنان احمد اور ان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹریژرر جناب فہیم شاہ اور ان کی ٹیم کی محنت، لگن اور دونوں اجلاسوں کے کامیاب انعقاد میں کردار کو سراہا۔ وائس چانسلر نے بالخصوص رجسٹرار آفس اور ٹریژرر آفس کی مؤثر انتظامی صلاحیتوں اور بہترین باہمی رابطہ کاری کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے سامنے یونیورسٹی کے سرپلس بجٹ کو پیش کرنے اور اجلاسوں کے انتظامات کو کامیابی سے یقینی بنایا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے شفافیت، تعلیمی معیار، جدت طرازی اور وسائل کے مؤثر و دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ طلبہ، اساتذہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اجلاسوں کے اختتام پر تمام اراکین کا یونیورسٹی کی ترقی و پیش رفت کے لیے قیمتی تجاویز، تعاون اور خدمات پر شکریہ ادا کیا گیا۔
مردان،(نما ئندہ خصو صی ): ویمن یونیورسٹی مردان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کی زیرِ صدارت فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کا 19واں اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد سنڈیکیٹ کا 30واں اجلاس بھی کامیابی سے منعقد کیا گیا۔
فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے یونیورسٹی کی مالی صورتحال اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور مجوزہ بجٹ منظوری کے لیے سنڈیکیٹ کو پیش کرنے کی سفارش کی۔
بعد ازاں منعقدہ 30ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں اراکین نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ سنڈیکیٹ نے اپنے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی توثیق بھی کی اور مختلف انتظامی و تعلیمی امور پر غور کیا۔
اجلاسوں کی ایک اہم کامیابی مالی سال 2026-27 کے ریکرنگ بجٹ تخمینوں کی منظوری تھی، جنہیں مزید منظوری کے لیے ویمن یونیورسٹی مردان کی سینیٹ کو ارسال کیا جائے گا۔ منظور شدہ بجٹ کے مطابق یونیورسٹی کے کل دستیاب وسائل 980.30 ملین روپے ہیں، جبکہ متوقع اخراجات 798.65 ملین روپے ہوں گے، جس کے نتیجے میں 181.65 ملین روپے کا سرپلس حاصل ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ یونیورسٹی نے اپنے اینڈومنٹ/ریزرو فنڈ کو کامیابی کے ساتھ 300 ملین روپے تک مستحکم کر لیا ہے، جو ادارے کے مالی استحکام، ترقی، تعلیمی معیار اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے عزم کا مظہر ہے۔
سنڈیکیٹ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے رجسٹرار جناب عدنان احمد اور ان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹریژرر جناب فہیم شاہ اور ان کی ٹیم کی محنت، لگن اور دونوں اجلاسوں کے کامیاب انعقاد میں کردار کو سراہا۔ وائس چانسلر نے بالخصوص رجسٹرار آفس اور ٹریژرر آفس کی مؤثر انتظامی صلاحیتوں اور بہترین باہمی رابطہ کاری کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے سامنے یونیورسٹی کے سرپلس بجٹ کو پیش کرنے اور اجلاسوں کے انتظامات کو کامیابی سے یقینی بنایا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے شفافیت، تعلیمی معیار، جدت طرازی اور وسائل کے مؤثر و دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ طلبہ، اساتذہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اجلاسوں کے اختتام پر تمام اراکین کا یونیورسٹی کی ترقی و پیش رفت کے لیے قیمتی تجاویز، تعاون اور خدمات پر شکریہ ادا کیا گیا۔