اکثریت ڈیجیٹل

قر بانی سنت ابراھیمی " صفائی عین عبادت۔تحریر۔جنید یو سفزئی

تازہ ترین | 01 Jun 2026
قربانی ایک سعادت، صفائی عین عبادت
عید کے گمنام ہیروز کو سلام
تحریر: جنید یوسفزئی

عیدالاضحی کی صبح جب فضا میں تکبیروں کی صدائیں گونج رہی ہوتی ہیں، بچے نئے کپڑوں میں ملبوس خوشیوں سے سرشار ہوتے ہیں اور خاندان قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں، اسی وقت کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عید کا رنگ دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں تحائف نہیں بلکہ جھاڑو ہوتے ہیں، ان کے چہروں پر عید کی مصروفیات نہیں بلکہ ذمہ داریوں کا احساس نمایاں ہوتا ہے، اور ان کی منزل اپنے گھر نہیں بلکہ شہر کی گلیاں، بازار اور سڑکیں ہوتی ہیں۔

یہ صفائی ورکرز ہیں، وہ گمنام ہیروز جن کی بدولت لاکھوں شہری عید کے دن صاف ستھرے ماحول میں اپنی خوشیاں منا پاتے ہیں۔

عیدالاضحی ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں اور ایثار و اخلاص کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاہم قربانی کے اس عظیم فریضے کے بعد ایک اور اہم ذمہ داری جنم لیتی ہے، اور وہ ہے صفائی کی ذمہ داری۔ اگر آلائشیں بروقت نہ اٹھائی جائیں تو خوشیوں کا تہوار بدبو، آلودگی اور بیماریوں کے خطرات میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں صفائی ورکرز کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ جب بیشتر لوگ اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں، تب یہ محنت کش شدید گرمی، تھکن اور مسلسل دباؤ کے باوجود میدانِ عمل میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کی خاموش محنت اس حقیقت کا اعلان کرتی ہے کہ صفائی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت کا مقدس فریضہ ہے۔

مردان میں اس سال بھی واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی مردان (WSSCM) نے عیدالاضحی کے موقع پر ایک مثالی صفائی آپریشن انجام دیا۔ عید سے پہلے ہی جامع منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی تھی۔ عیدگاہوں کی صفائی، آلائشوں کی بروقت منتقلی، شکایات کے ازالے اور عوامی آگاہی جیسے تمام امور کو منظم انداز میں ترتیب دیا گیا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عید کے تین دنوں کے دوران 700 صفائی ورکرز اور 84 گاڑیوں نے مسلسل خدمات انجام دیں۔ مردان کی 14 یونین کونسلوں سے مجموعی طور پر 2303 ٹن جانوروں کی آلائشیں اٹھا کر محفوظ انداز میں تلف کی گئیں۔ صفائی کے بعد مختلف مقامات پر چونا ڈالا گیا، جراثیم کش اسپرے کیا گیا اور تعفن کے خاتمے کے لیے خوشبو کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔ شہر کے اہم چوکوں اور گلی محلوں کو عرقِ گلاب سے دھو کر ماحول کو مزید خوشگوار بنایا گیا۔

اس کامیاب آپریشن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے کنٹرول روم مسلسل فعال رہا۔ موصول ہونے والی 85 شکایات پر بروقت کارروائی کی گئی اور بعد ازاں شہریوں سے رابطہ کرکے ان کی تسلی بھی کی گئی۔ عید کے پہلے روز آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک مؤثر کڑی تھی جس نے عوام اور ادارے کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف منصوبوں سے نہیں بلکہ قیادت اور ٹیم ورک سے وابستہ ہوتی ہے۔ WSSCM کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر عادل نواز نے عید کے تینوں دن فیلڈ میں رہ کر صفائی آپریشن کی نگرانی کی۔ عید کے پہلے روز رات گئے تک شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے اور انتظامات کا جائزہ لینے کے باوجود وہ اگلی صبح دوبارہ اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ عید کی خوشیاں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کیوں نہیں گزارتے تو ان کا جواب ان کی قیادت اور وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صفائی ورکرز شدید گرمی اور مسلسل مشقت کے باوجود شہریوں کی خدمت کے لیے میدان میں موجود ہیں تو ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اپنی ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں۔

اسی طرح صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی،سیکرٹری بلدیات ظفر الاسلام اور ڈبلیو ایس ایس سی ایم بورڈ کے ممبران ہارون رشید،جاوید حسین اور مبینہ رضی الدین مسلسل صفائی آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔صوبائی وزیر بلدیات اور سیکرٹری بلدیات نے عید کے تینوں روز چیف ایگزیکٹیو آفیسر انجنئیرعادل نواز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور صفائی آپریشن کی نگرانی کی۔ صوبائی اسمبلی کے رکن اور سابق صوبائی وزیر ظاہر شاہ طورو نے عید الاضحی کے تیسرے روز مردان شہر کا دورہ کیا اور شہریوں سے صفائی کے حوالے سے استفسار کیا۔انہوں نے مردان نوشہرہ روڈ،شمسی روڈ،بینک روڈ،چاٹو چوک،طورو چوک،کالج چوک او ردیگر علاقوں کا دورہ کیا۔انہوں نے شہریوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور شہریوں کی رائے معلوم کی۔اس موقع پر شہریوں کی جانب سے ڈبلیو ایس ایس سی ایم کے صفائی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ڈبلیو ایس ایس سی ایم نے عید الاضحی کے موقع پر جانفشانی سے شہر کی صفائی کی ہے لیکن اس مرتبہ جس لگن اور جزبے کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔

عید الاضحی کے تین روز مردان شہر کے چودہ یونین کونسلوں سے 2303 ٹن جانوروں کی آلائشوں کو اٹھا کر اسے محفوظ طریقے سے تلف کردیا گیا۔عید کے تین دنوں میں 700 ورکرز اور 84 گاڑیوں نے صفائی آپریشن میں حصہ لیا اور دن رات کام کر کے شہریوں کو پاک صاف ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا۔اس دوران 85 شکایات بھی موصول ہوئی جنہیں نہ صرف حل کر دیا گیا بلکہ شہریوں کی رائے بھی معلوم کی گئی کہ اس نے جو شکایت کی ہے وہ حل ہو گئی ہے کہ نہیں۔شہر سے آلائشیں اٹھانے کے بعد متعین شدہ مقامات پر چونا ڈالا گیا او رسپرے بھی کیا گیا۔اسی طرح شہر کے اہم چوراہوں اور گلی محلوں کو عرق گلاب سے دھویا گیا جبکہ شہر سے تعفن کے خاتمے کے لئے خوشبو کا سپرے بھی کیا گیا۔

اس سال صفائی انتظامات کو عوامی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ مختلف سوشل میڈیا سرویز میں شہریوں کی بڑی تعداد نے صفائی عملے کی کارکردگی کو سراہا۔ متعدد سماجی شخصیات، منتخب نمائندوں، وکلا، صحافیوں اور شہریوں نے بھی صفائی ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
درحقیقت عیدالاضحی صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ ذاتی مفادات، آرام اور خواہشات کو اجتماعی بھلائی کے لیے قربان کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔ صفائی ورکرز اس درس کی عملی تصویر ہیں۔ وہ اپنی عید، اپنے آرام اور اپنے خاندانوں کے ساتھ گزارے جانے والے قیمتی لمحات قربان کرکے دوسروں کو صاف، محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں۔
ہم جب عید کے دن صاف سڑکوں پر چلتے ہیں، خوشگوار ماحول میں سانس لیتے ہیں اور اپنے گھروں کے باہر صفائی دیکھتے ہیں تو شاید ہمیں یاد نہیں رہتا کہ اس کے پیچھے کتنے تھکے ہوئے ہاتھوں کی محنت شامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہرت کے طالب نہیں، جن کی تصاویر اخبارات کی سرخیاں نہیں بنتیں، لیکن ان کی خدمات کسی بھی خراجِ تحسین سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
عید کی حقیقی روح بھی یہی ہے کہ ہم ان لوگوں کو یاد رکھیں جو ہماری خوشیوں کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ صفائی ورکرز یقیناً ہمارے معاشرے کے وہ خاموش سپاہی اور گمنام ہیروز ہیں جو عزت، احترام اور اعتراف کے مستحق ہیں۔
سلام ہے ان محنت کش ہاتھوں کو، جو دوسروں کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں، اور سلام ہے ان گمنام ہیروز کو جن کی وجہ سے ہمارے شہر عید کے دن بھی صاف، خوبصورت اور مہکتے رہتے ہیں۔