پاکستانی وفد کی امریکہ امد۔رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن کی اعلئ سطح وفد کی واشنگٹن امد
🗓 16 May 2026
*امریکہ میں پاکستانی چاول کی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت، رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں*
*پاکستانی باسمتی کو امریکی مارکیٹ میں مزید متعارف کرانے اور عالمی سطح پر برآمدات بڑھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور*
*فضل خالق،سے*
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد ان دنوں امریکہ کے دورے پر موجود ہے، جہاں پاکستانی چاول کی برآمدات میں اضافے، نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور پاک امریکہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے اہم ملاقاتیں اور مشاورتی نشستیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کی جانب سے وفد کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب اور خصوصی تجارتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، ٹریڈ منسٹر حنیف چنہ، معروف کاروباری شخصیات، تجارتی ماہرین، درآمد کنندگان اور پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز افراد نے شرکت کی۔
تقریب کی میزبانی یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے اہم عہدیداران رؤف خان، حافظ حبیب اللہ، گل شیر
ساہی، ماجد ساہی اور دیگر شخصیات نے کی۔ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں اہمیت اور زرعی شعبے میں موجود وسیع مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستانی باسمتی چاول اپنی منفرد خوشبو، اعلیٰ معیار اور بہترین ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اگر جدید تجارتی حکمت عملی اختیار کی جائے تو امریکی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستانی رائس انڈسٹری کو درپیش چیلنجز، عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے، شپنگ اخراجات، جدید فوڈ قوانین، امپورٹ پالیسیوں اور امریکی صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ بھارت عالمی رائس مارکیٹ میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھنے کے لیے جدید مارکیٹنگ، برانڈنگ اور حکومتی سطح پر مسلسل معاونت حاصل کر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی چاول نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں اور حکومتِ پاکستان برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی کاروباری برادری دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پل کا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ پاکستانی سفارت خانہ برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ٹریڈ منسٹر حنیف چنہ نے کہا کہ امریکی مارکیٹ میں پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان جدید تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات کی پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باسمتی چاول عالمی سطح پر معیار کی علامت ہیں اور اگر نجی شعبہ اور حکومتی ادارے مشترکہ طور پر کام کریں تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
تقریب کے دوران یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے وفد کو امریکی مارکیٹ کے تجارتی نظام، درآمدی قوانین، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور کاروباری مواقع سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ اس موقع پر مختلف امریکی کاروباری اداروں اور پاکستانی ایکسپورٹرز کے درمیان مستقبل میں مشترکہ تجارتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کے اراکین نے کہا کہ یہ دورہ ان کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا ہے۔ وفد کے مطابق یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے انہیں امریکی مارکیٹ کے جدید رجحانات، کاروباری تقاضوں اور تجارتی حکمتِ عملیوں کو سمجھنے کا قیمتی موقع ملا، جبکہ ان کے تمام اہم سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی فراہم کیے گئے۔
وفد کے اراکین نے مزید کہا کہ پاکستانی چاول دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اگر حکومت، نجی شعبہ اور بیرونِ ملک پاکستانی کاروباری تنظیمیں مشترکہ طور پر کام کریں تو پاکستانی رائس انڈسٹری نہ صرف امریکی بلکہ عالمی منڈی میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی، زرعی اور کاروباری شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جا یں
*پاکستانی باسمتی کو امریکی مارکیٹ میں مزید متعارف کرانے اور عالمی سطح پر برآمدات بڑھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور*
*فضل خالق،سے*
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد ان دنوں امریکہ کے دورے پر موجود ہے، جہاں پاکستانی چاول کی برآمدات میں اضافے، نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور پاک امریکہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے اہم ملاقاتیں اور مشاورتی نشستیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کی جانب سے وفد کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب اور خصوصی تجارتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، ٹریڈ منسٹر حنیف چنہ، معروف کاروباری شخصیات، تجارتی ماہرین، درآمد کنندگان اور پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز افراد نے شرکت کی۔
تقریب کی میزبانی یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے اہم عہدیداران رؤف خان، حافظ حبیب اللہ، گل شیر
ساہی، ماجد ساہی اور دیگر شخصیات نے کی۔ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں اہمیت اور زرعی شعبے میں موجود وسیع مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستانی باسمتی چاول اپنی منفرد خوشبو، اعلیٰ معیار اور بہترین ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اگر جدید تجارتی حکمت عملی اختیار کی جائے تو امریکی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستانی رائس انڈسٹری کو درپیش چیلنجز، عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے، شپنگ اخراجات، جدید فوڈ قوانین، امپورٹ پالیسیوں اور امریکی صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ بھارت عالمی رائس مارکیٹ میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھنے کے لیے جدید مارکیٹنگ، برانڈنگ اور حکومتی سطح پر مسلسل معاونت حاصل کر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی چاول نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں اور حکومتِ پاکستان برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی کاروباری برادری دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پل کا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ پاکستانی سفارت خانہ برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ٹریڈ منسٹر حنیف چنہ نے کہا کہ امریکی مارکیٹ میں پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان جدید تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات کی پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باسمتی چاول عالمی سطح پر معیار کی علامت ہیں اور اگر نجی شعبہ اور حکومتی ادارے مشترکہ طور پر کام کریں تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
تقریب کے دوران یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے وفد کو امریکی مارکیٹ کے تجارتی نظام، درآمدی قوانین، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور کاروباری مواقع سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ اس موقع پر مختلف امریکی کاروباری اداروں اور پاکستانی ایکسپورٹرز کے درمیان مستقبل میں مشترکہ تجارتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد کے اراکین نے کہا کہ یہ دورہ ان کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا ہے۔ وفد کے مطابق یو ایس پاکستان ٹریڈ آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے انہیں امریکی مارکیٹ کے جدید رجحانات، کاروباری تقاضوں اور تجارتی حکمتِ عملیوں کو سمجھنے کا قیمتی موقع ملا، جبکہ ان کے تمام اہم سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی فراہم کیے گئے۔
وفد کے اراکین نے مزید کہا کہ پاکستانی چاول دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اگر حکومت، نجی شعبہ اور بیرونِ ملک پاکستانی کاروباری تنظیمیں مشترکہ طور پر کام کریں تو پاکستانی رائس انڈسٹری نہ صرف امریکی بلکہ عالمی منڈی میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی، زرعی اور کاروباری شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جا یں