علی امین گنڈاپور کا پیغام: عاصم منیر عمران خان کا مسئلہ حل کریں، پشاور جلسے میں مطالبہ
🗓 30 Sep 2025
پشاور: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہفتے کو پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشَل سیدی اسیم منیر سے اپیل کی کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کا مسئلہ حل کریں۔ اس جلسے کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی تھا اور اسے عمران خان کی جانب سے جاری ہدایات کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔
جلسے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بشمول بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور شیخ وقاص اکرم بھی موجود تھے۔ گنڈاپور نے خطاب کے دوران کہا کہ عمران خان نے سابقہ تقاریر میں قوم کو فوج کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہدایت کی تھی اور اب "عاصم منیر 25 کروڑ عوام کے سپہ سالار ہیں" — لہٰذا انہیں عمران خان کے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے صوبائی اور وفاقی سطح پر امن و امان کے بارے میں بھی بات کی اور واضح کیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کسی نئے آپریشن کی حامی نہیں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ عمران خان کو 9 مئی 2023 کو نیب کی کارروائی کے دوران اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اس کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجات اور بعض جگہ پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے جن پر حکام نے متعدد لوگوں کو حراست میں لیا تھا — اسی پس منظر میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں اور مطالبات جاری ہیں۔
جلسے میں شرکاء اور کارکنان نے بھی عمران خان کی رہائی کا زور دیا اور پارٹی رہنماؤں نے آئندہ لائحہ عمل، احتجاجی تحریک اور عوامی مہم کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس جلسے کے مناظر اور تقاریر کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی گردش کرتی رہیں۔
جلسے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بشمول بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور شیخ وقاص اکرم بھی موجود تھے۔ گنڈاپور نے خطاب کے دوران کہا کہ عمران خان نے سابقہ تقاریر میں قوم کو فوج کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہدایت کی تھی اور اب "عاصم منیر 25 کروڑ عوام کے سپہ سالار ہیں" — لہٰذا انہیں عمران خان کے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے صوبائی اور وفاقی سطح پر امن و امان کے بارے میں بھی بات کی اور واضح کیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کسی نئے آپریشن کی حامی نہیں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ عمران خان کو 9 مئی 2023 کو نیب کی کارروائی کے دوران اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اس کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجات اور بعض جگہ پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے جن پر حکام نے متعدد لوگوں کو حراست میں لیا تھا — اسی پس منظر میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں اور مطالبات جاری ہیں۔
جلسے میں شرکاء اور کارکنان نے بھی عمران خان کی رہائی کا زور دیا اور پارٹی رہنماؤں نے آئندہ لائحہ عمل، احتجاجی تحریک اور عوامی مہم کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس جلسے کے مناظر اور تقاریر کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی گردش کرتی رہیں۔