شہداء پولیس کے 76 وارث PASIs مقرر، آر پی او مردان نے تقرری احکامات تقسیم کر دیے
🗓 01 Sep 2026
آر پی او مردان قاسم علی خان نے PASI کے تقررنامے تقسیم کر دیے، شہداء کے ورثاء کی پولیس فورس میں شمولیت عظیم قربانیوں کا تسلسل ہے.
مردان: ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان کی زیرِ صدارت ریجنل پولیس آفس مردان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مردان ریجن کے شہداء پولیس کے 76 ورثاء کو PASI کے طور پر تقررنامے تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں مردان ریجن کے تمام ضلعی پولیس افسران سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان نے شہداء پولیس کے ورثاء میں تقررنامے تقسیم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شہداء پولیس کی لازوال قربانیاں خیبر پختونخوا پولیس کے لیے باعثِ فخر اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آر پی او مردان نے کہا کہ پولیس شہداء نے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج انہی شہداء کے ورثاء کا پولیس فورس کا حصہ بننا ان عظیم قربانیوں کے تسلسل کی علامت ہے اور یہ اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔
قاسم علی خان نے نئے بھرتی ہونے والے پی اے ایس آئیز سے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس کی وردی ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ اس وردی کو زیب تن کرنے والے ہر اہلکار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری، عوام کی خدمت اور انصاف کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے گا اور وہ اپنے شہید والدین کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی نیک نامی میں اضافہ کریں گے اور پوری دیانت، فرض شناسی، بہادری اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ ان بہادر سپوتوں کی لازوال قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہداء کے ورثاء آج اسی فورس میں شامل ہو کر اپنے شہید والدین کے مشن، جذبے اور خدمتِ خلق کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
مردان: ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان کی زیرِ صدارت ریجنل پولیس آفس مردان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مردان ریجن کے شہداء پولیس کے 76 ورثاء کو PASI کے طور پر تقررنامے تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں مردان ریجن کے تمام ضلعی پولیس افسران سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان نے شہداء پولیس کے ورثاء میں تقررنامے تقسیم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شہداء پولیس کی لازوال قربانیاں خیبر پختونخوا پولیس کے لیے باعثِ فخر اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آر پی او مردان نے کہا کہ پولیس شہداء نے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج انہی شہداء کے ورثاء کا پولیس فورس کا حصہ بننا ان عظیم قربانیوں کے تسلسل کی علامت ہے اور یہ اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔
قاسم علی خان نے نئے بھرتی ہونے والے پی اے ایس آئیز سے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس کی وردی ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ اس وردی کو زیب تن کرنے والے ہر اہلکار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری، عوام کی خدمت اور انصاف کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے گا اور وہ اپنے شہید والدین کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی نیک نامی میں اضافہ کریں گے اور پوری دیانت، فرض شناسی، بہادری اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ ان بہادر سپوتوں کی لازوال قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہداء کے ورثاء آج اسی فورس میں شامل ہو کر اپنے شہید والدین کے مشن، جذبے اور خدمتِ خلق کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔