📅 ہفتہ، 29-08-2026 فیس بک یوٹیوب
ڈیلی اکثریتDaily Aksriyat
سچائی کی آواز — تازہ ترین خبریں اور روزنامہ
تازہ ترین

جائیداد کا تنازعہ۔انصاف فراہیم کیا جائیں ۔انیلہ

🗓 10 Aug 2026
جائیداد کا تنازعہ۔انصاف فراہیم کیا جائیں ۔انیلہ
*خواجہ گنج بازار کی کروڑوں روپے مالیت کی وراثتی جائیداد کا تنازع، تین بہنوں کا رشتہ داروں پر قبضے اور جعلسازی کا الزام*

*والد کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی گئی، متاثرہ خواتین کی مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس، وزیراعلیٰ اور اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ*
مردان (. . . ): خواجہ گنج بازار کے معروف تاجر حاجی فرمان علی کی بیٹیوں انیلہ فرمان، مہرین فرمان اور عائشہ فرمان نے اپنے رشتہ داروں پر کروڑوں روپے مالیت کی وراثتی جائیداد پر مبینہ قبضے، جعلسازی اور غیر قانونی طور پر جائیداد منتقل و فروخت کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر طارق ارائیں، کمشنر مردان، ڈی آئی جی مردان اور ڈپٹی کمشنر مردان سے فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مردان پریس کلب میں اپنے والد حاجی فرمان علی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خواتین نے کہا کہ ان کے والد کی بیماری اور علالت کے دوران بعض رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندانی اور وراثتی جائیداد کے حوالے سے ایسے اقدامات کیے جن سے انہیں ان کے قانونی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔
خواتین کے مطابق ان کے والد کی ملکیتی و وراثتی جائیداد میں خواجہ گنج بازار سمیت مختلف مقامات پر موجود قیمتی اثاثے شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ جائیداد کے مختلف حصوں کے حوالے سے مبینہ طور پر غیر قانونی انتقال، دستاویزات میں ردوبدل اور فروخت کے معاملات سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ خواتین نے بتایا کہ وراثتی جائیداد سے متعلق 10 مختلف اثاثوں کے بارے میں انہیں شدید تحفظات ہیں اور ان کے مطابق بعض معاملات میں ان کے قانونی حقوق کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ریکارڈ کی مکمل چھان بین، انتقالات اور دیگر دستاویزات کی فرانزک و قانونی جانچ کرائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
انیلہ فرمان، مہرین فرمان اور عائشہ فرمان نے کہا کہ وہ اپنے والد کی جائیداد میں قانونی وارث ہیں اور کسی بھی غیر قانونی طریقے سے انہیں ان کے حق سے محروم کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جائیداد کے ریکارڈ، انتقالات اور مبینہ طور پر تیار کی گئی دستاویزات کی تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف ایک خاندان کی جائیداد کا نہیں بلکہ خواتین کے وراثتی حقوق کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کریں۔
متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر طارق ارائیں، کمشنر مردان، ڈی آئی جی مردان، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں اور مبینہ غیر قانونی انتقالات و دستاویزات کی مکمل چھان بین کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
متاثرہ خواتین نے مزید کہا کہ وہ اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے متعلقہ عدالتوں سے بھی رجوع کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گی۔