اکثریت ڈیجیٹل

ترکیہ کے پارلیمنٹیرین علی شاہین نے پاکستان-افغانستان کشیدگی میں ترکیہ کے ثالثی کردار کی تجویز پیش کردی

تازہ ترین | 16 Oct 2025
اسلام آباد،(ہد ایت الر حمن ہو تی سے) سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کے موقع پر پاکستان کا دورہ کرنے والے ترک پارلیمنٹیرین اور ترکیہ-پاکستان انٹر پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے صدر علی شاہین نے پاک-ترک ویمن فورم کی صدر شبانہ ایاز سے تفصیلی گفتگو کے دوران کہا کہ ترکیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے حل میں ثالث کا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے پاک-ترکیہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پانچ اہم تجاویز پیش کیں، جنہیں انہوں نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا۔
علی شاہین کی اہم تجاویز:
اسلام آباد میں AK پارٹی دفتر کا قیام: یہ دفتر پارلیمانی سفارت کاری، تعلیمی تبادلے اور ثقافتی روابط کو فروغ دے گا، جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل 650 ملین سے زائد افراد کے اسٹریٹجک بلاک میں تعاون کو بڑھائے گا۔
گوادر پورٹ پر مشترکہ ڈرون بیس: یہ اقدام عرب سمندر اور بحر ہند میں سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہوگا اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رہے گا۔
خلیج اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی تعاون: مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصوبوں کے ذریعے مسلم دنیا کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر ماڈل تیار کیے جائیں گے۔
پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم کا حصہ بنانا: برصغیر میں 700 سالہ ترک اثر و رسوخ اور قرہ باغ میں پاکستان کی آذربائیجان کی حمایت کی بنیاد پر، پاکستان کو تنظیم کا فعال رکن بنانے کی تجویز۔
انقرہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی بحالی: 2021 سے غیر فعال یہ اجلاس پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی اور اعتماد سازی کے عمل کو مضبوط کر سکتا ہے، تاکہ مرحلہ وار جنگ بندی اور اقتصادی مراعات سے پائیدار امن قائم ہو۔
یہ تجاویز 8 اکتوبر 2025 کو پاکستان کے ضلع اورکزئی میں ایک مہلک واقعے کے بعد سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان کے کابل اور پکتیکا صوبوں میں فضائی کارروائیاں کیں۔ ترکیہ، جو ماضی میں 1950 کی دہائی سے مذاکرات کی حمایت، نیٹو کے افغانستان مشن میں شراکت، اور 2011 کے استنبول عمل کی قیادت کر چکا ہے، خطے میں امن و خوشحالی کے لیے ایک مؤثر فریق ہے