📅 جمعرات، 15-10-2026 فیس بک یوٹیوب
ڈیلی اکثریتDaily Aksriyat
سچائی کی آواز — تازہ ترین خبریں اور روزنامہ
کھیل کے میدان

ایک کال نے سب کچھ بدل دیا۔ آخر یہ رضا اللہ ہے کون?

🗓 12 Sep 2026
ایک کال نے  سب کچھ بدل دیا۔ آخر یہ رضا اللہ ہے کون?
ایک کال نے سب کچھ بدل دیا۔ آخر یہ رضا اللہ ہے کون?
خاور عزیز سے

چند دن پہلے وہ مردان میں تھا، اور آج پوری کرکٹ دنیا اس کا نام جاننا چاہتی ہے۔

ہر نوجوان کرکٹر کی طرح رضا اللہ کی آنکھوں میں بھی ایک خواب تھا؛ پاکستان کی نمائندگی کرنے کا، بڑے میدانوں میں کھیلنے کا، اور اپنے شہر و ملک کا نام روشن کرنے کا۔ لیکن پھر… ایک کال نے سب کچھ بدل دیا۔

انگلینڈ سے بلاوا آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مردان کے علاقے منصب سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان انگلینڈ پہنچ گیا، جہاں اسے انگلینڈ کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ چند دن پہلے تک شاید مردان سے باہر بہت کم لوگ اس نام سے واقف تھے، مگر آج اخبارات کی سرخیاں رضا اللہ کے نام سے سج رہی ہیں، سوشل میڈیا پر اس کا چرچا ہے، اور لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: آخر یہ رضا اللہ ہے کون؟

رضا اللہ کی عمر ابھی صرف 21 سال ہے اور اس کا سفر بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

رضا اللہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے اپر دیر میں پیدا ہوا۔ بعد میں والد صاحب کا تبادلہ مردان ہوا تو پوری فیملی مردان منتقل ہوگئی، اور اب وہیں رہائش پذیر ہے۔

مگر اس سفر کا آغاز اتنا آسان نہیں تھا۔

ایک انٹرویو میں رضا اللہ نے بتایا کہ شروع میں والد صاحب کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کرکٹ کھیلتا ہے، حتیٰ کہ والدہ بھی اس شوق سے زیادہ واقف نہیں تھیں۔ تاہم،اس کے بھائی اس کے ساتھ کھڑے رہے۔

وہ کہتے ہیں: “میرے بھائی مجھے کافی سپورٹ کرتے تھے، انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا اور ابھی تک دے رہے ہیں۔ بھائی کی طرف سے کافی سپورٹ ملتی ہے۔” شاید یہی سپورٹ تھی جس نے اس نوجوان کو مشکلات کے باوجود اپنے خواب کے پیچھے چلتے رہنے کا حوصلہ دیا۔

رضا اللہ نے گزشتہ سال نومبر تک فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی اپنا ڈیبیو نہیں کیا تھا، جبکہ پی ایس ایل میں بھی اسے زیادہ مواقع نہیں ملے تھے۔اس کے باوجود اس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں نصف سنچری کے ساتھ سنچری بھی اسکور کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی سنچری اس وقت آئی جب اس کے کوچ نے اچانک اسے اوپننگ کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اس نوجوان کی رفتار نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

ملک میں ہی کھیلتے ہوئے رضا اللہ 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گیند کر رہا تھا۔ اس وقت پاکستان کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد بھی کہہ چکے تھے کہ ملک میں تیز رفتار گیند بازوں کی کمی ہے۔ اور پھر… وہ فون کال آئی۔ رضا اللہ مردان میں تھا جب اسے کال موصول ہوئی، لیکن وہ اس وقت سو رہا تھا۔ اگلی صبح نمازِ فجر کے لیے اٹھا تو اس نے پیغام دیکھا۔ اسے فوراً لاہور پہنچنے کو کہا گیا تھا۔ رضا اللہ کو لگا شاید اسے جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں بڑی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 21 سالہ اس نوجوان کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اور پھر اسے انگلینڈ کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔

بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھتے ہی رضا اللہ نے ایسا اثر چھوڑا جس نے سب کو چونکا دیا۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں اس نے اپنی تیز رفتاری اور جوش کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں۔ اور بات صرف گیند تک محدود نہیں رہی۔ بیٹنگ میں بھی اس نوجوان نے وہی جارحانہ انداز دکھایا۔ نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے رضا اللہ نے عباس کے ساتھ مل کر نویں وکٹ کے لیے 121 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ گس ایٹکنسن کے صرف چار گیندوں کے اسپیل میں اس نے تین چھکے لگا دیے، جبکہ جوش ٹونگ کی گیند پر بھی ایک چھکا لگایا۔

مجموعی طور پر اس نے نو چھکے لگائے اور ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ چھکوں کے ٹم ساؤتھی کے ریکارڈ کو برابر کر دیا۔ صرف 63 گیندوں پر 81 رنز!

اور یوں رضا اللہ نے پاکستان کو 121 رنز کی برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ رضااللہ کو ابھی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے پوری طرح تیار بھی نہیں سمجھا جا رہا تھا۔ پاکستان کے کسی بھی بین الاقوامی اسکواڈ میں اس پر غور نہیں کیا جا رہا تھا۔ لیکن جب موقع آیا تو اسی نوجوان نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں تقریباً کسی بھی دوسرے پاکستانی بولر سے زیادہ اوورز کرائے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ ایکسپرٹ محمد اقبال کا کہنا ہے کہ رضا اللہ کی شاندار کارکردگی پر پورے مردان کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضا اللہ ایک انتہائی باصلاحیت اور ٹیلنٹڈ کھلاڑی ہیں، جبکہ ان کی کامیابی مسلسل محنت، لگن اور عزم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے رضا اللہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مردان کے لیے یہ صرف ایک کرکٹر نہیں، بلکہ اپنا ایک بیٹا ہے، جس نے اپنے شہر اور ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کیا۔

کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے اور قانونی ماہر بادشاہ رحمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے رضا اللہ کی کہانی ایک امید ہے اور ان تمام نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک پیغام بھی: خواب دیکھو، محنت کرو، اور موقع آنے کا انتظار مت چھوڑو کیونکہ کبھی کبھی، صرف ایک موقع پوری زندگی بدل دیتا ہے۔

مردان سے انگلینڈ تک کا سفر طے ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رضا اللہ یہاں سے کہاں تک جاتا ہے۔ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔۔۔